اس بار ہاتھ تھام کے موقع پرست کا
دیکھا ہے خواب رینگنے والے نے جست کا
نزدیک آ چکی ہے وہ آواز دور کی
اب وقت ہی کہاں ہے کسی بندوبست کا
بہتر یہی کہ خود سے کیے جاؤں میں ادھار
احسان کیوں اٹھاؤں کسی چیرہ دست کا
آتا ہوں اس طرف بھی تماشہ تو دیکھ لوں
وعدہ ہر ایک یاد ہے یومِ الست کا
اس بار آئنہ ہے مقابل سو خود کو میں
عادی بنا رہا ہوں ابھی سے شکست کا
سچ جس کو ناگوار ہو اٹھ جائے شوق سے
حامی نہیں فقیر بھی ایسی نشست کا
حالت تو دیکھ اٹھ کے در و سقف و بام کی
اب آگے آ رہا ہے مہینہ اگست کا
فضل و کمال و علم و ہنر ذوق و آگہی
طے کرتے ہیں مقام بلند اور پست کا
اس نے ہر اک سوال کا الٹا دیا جواب
تاصف مرید ہو کے اٹھا بادہ مست کا
۔۔۔۔۔
کام حرص و ہوّس کا تھوڑی ہے
عشق ہر اک کے بس کا تھوڑی ہے
وہ مری دسترس میں ہے لیکن
مسئلہ دسترس کا تھوڑی ہے
آہ، آزاد چھوڑ دے کہ میاں
یہ پرندہ قفس کا تھوڑی ہے
تا بکے سر پہ آسمان اْٹھائیں
ہجر یک دو نفس کا تھوڑی ہے
اب تو بس صُور پھونکئے کہ یہ کام
اب صدائے جرس کا تھوڑی ہے
اپنی تنہائی چھوڑدوں کیوں کر
ساتھ اک دو برس کا تھوڑی ہے
جست بھرنے کا وقت ہے تاصف
وقت یہ پیش و پس کا تھوڑی ہے
